Halloween Costume ideas 2015
Articles by "Top News"

फोटो: IANS

 राजस्थान सरकार ने कोरोनो वायरस महामारी के मद्देनजर त्योहारी सीजन के दौरान पटाखों की बिक्री पर प्रतिबंध लगाने की घोषणा की है। साथ ही 16 नवंबर तक स्कूल और कॉलेज बंद रहने की भी घोषणा की गई। राज्य सरकार ने कहा कि पटाखों की बिक्री पर प्रतिबंध लगाने का निर्णय कोरोना संक्रमित रोगियों के स्वास्थ्य की रक्षा के साथ-साथ आम लोगों के स्वास्थ्य को ध्यान में रखते हुए लिया गया है, जो पटाखों से निकलने वाले धुएं से असहज महसूस कर सकते हैं। इसके अलावा पटाखों की बिक्री के लिए अस्थायी लाइसेंस पर प्रतिबंध की भी घोषणा की गई है।

मुख्यमंत्री अशोक गहलोत ने कोरोनोवायरस स्थिति की समीक्षा करते हुए कहा कि इस चुनौतीपूर्ण समय में लोगों के जीवन की रक्षा करना सरकार के लिए सबसे महत्वपूर्ण है। उन्होंने कहा, "शादियों और अन्य समारोहों में भी आतिशबाजी बंद कर दी जानी चाहिए।" उन्होंने कहा कि फिटनेस सर्टिफिकेट के बिना सड़कों पर चलने वाले वाहनों पर सख्त कार्रवाई की जानी चाहिए।

'अनलॉक-6' दिशानिर्देशों पर चर्चा के दौरान, प्रमुख सचिव (गृह) अभय कुमार ने कहा कि 16 नवंबर तक स्कूल, कॉलेज और कोचिंग सेंटर सहित शैक्षणिक संस्थान बंद रहेंगे। 1 नवंबर से 30 नवंबर तक राज्य के लिए जारी किए गए नवीनतम दिशानिर्देशों में, यह तय किया गया है कि स्विमिंग पूल, सिनेमा हॉल, मल्टीप्लेक्स, मनोरंजन पार्क आदि पहले के आदेश के अनुसार 30 नवंबर तक बंद रहेंगे। विवाह समारोह में मेहमानों की अधिकतम सीमा 100 होगी जबकि अंतिम संस्कार में 20 व्यक्तियों की सीमा लागू रहेगी।

DSC_3858 edit.jpgنئی دہلی، وزارت ثقافت کے تحت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (دلی سرکل) نے، کھڑکی مسجد ، واقع نئی دلی کے تحفظ کے سلسلے میں جاری اپنے امور کے دوران 254 تانبے کے سکے برآمد کئے ہیں۔ یہ مسجد کھڑکی گاؤں کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ اس مسجد کی تعمیر خان جہاں جوناں شاہ نے کی تھی، جو فیروز شاہ تغلق (88-1351)کا وزیراعظم تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ اس کے ذریعے بنوائی گئی 7 مسجد وں میں سے ایک مسجد ہے ۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، نےکھڑکی مسجد کے تحفظ کے لئے اس علاقے کی صفائی ستھرائی کا کام شروع کیا ہے۔ اسی صفائی ستھرائی کے کام کے دوران، عہد وسطیٰ کے 254 سکے اس تاریخی عمارت کے داخلی دروازے کے نزدیک پائے گئے۔ فوری طور پر ماہرین آثار قدیمہ ، تحفظاتی اسسٹنٹ اور فوٹوگرافروں پر مشتمل ایک ٹیم موقع پر روانہ کی گئی، جس نے سکوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ آرکیالوجیکل سروے آ ف انڈیا کی سائنس شاخ کے ماہرین نے چند سکوں کو صاف کیا اور ابتدائی مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سکے، شیر شاہ سوری اور اس کے ورثہ کے دوراقتدار سے متعلق ہیں ۔

DSC_4829 EDIT.jpgیہاں اس بات کا ذکر مناسب ہوگا کہ 2003 میں 63 سکے اسی احاطےسے صفائی ستھرائی اور تحفظاتی عمل کے دوران برآمد ہوئے تھے۔ دلی سرکل نے ، ماہرین آثار قدیمہ کی تکنیکی نگرانی میں اس علاقے کی صفائی کا کام شروع کر رکھا ہے۔ مذکورہ سکوں کی صفائی کے بعد ماہرین کی مدد سے ان سکوں کو پرکھنے اور سمجھنے کی مزید کارروائی کی جائے گی۔

سنگ فرشی سے تعمیر اور موٹے پلاسٹر والی کھڑکی مسجد، ایک دو منزلہ عمارت ہے۔ نچلی منزل متعدد بیس منٹ والےحصوں پر مشتمل ہے۔ اس کے چاروں گوشے چار حصوں پر مشتمل ہیں اور عمارت قلعے سے مشابہ نظر آتی ہے۔ داخلی دروازہ 3 اطراف میں موجود ہے۔ صرف مغرب کی جانب کوئی داخلہ دروازہ واقع نہیں ہے۔ ہر دروازے پر مخروطی مینار ایستادہ ہیں اور صدر دروازہ مشرق کی جانب سے ہے۔ نچلی منزل کے حصوں سے مناسبت رکھتے ہوئے بالائی منز ل میں کھڑکیاں بنائی گئی ہیں، جنہوں نے اس مسجد کو موجودہ نام دیا ہے۔ ستونوں پر مشتمل احاطہ 25 مربع جات پر مشتمل ہے ہر ایک حصے میں 5 ستون ہیں اورہر ایک مربع قطعہ 9 چھوٹے چھوٹے قطعات پر مشتمل ہے۔ بڑے قطعات میں ہر جانب تین قطعات ہیں، دو گوشوں میں اور ایک وسط میں واقع ہے۔ احاطے کے مرکزی حصے میں واقع قطعہ کو شامل کر کے تمام تر قطعات 9 چھوٹے چھوٹے گنبدوں سے متصل ہیں، جن میں تغلق عہد کے فن تعمیر کی جھلک ملتی ہے۔ بقیہ قطعات میں سے 4 کو روشنی کے لئے درمیان میں بغیر چھت ڈالے ہوئے چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ دیگر پر مسطح چھت پڑی ہوئی ہے اس طریقے سے احاطے کو ، کور کرنے کا انداز صرف ایک دیگر مسجد میں ہی اپنایا گیا ہے، جو اسی معمار نے تعمیر کی تھی۔ شمالی ہند میں یہی 2 مسجدیں اس کی مثال ہیں اور ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ۔

Image result for image - pensionنئی دہلی۔ مرکزی کابینہ نے مرکزی حکومت کے ملازمین کے لئے مہنگائی بھتے اور پنشن یافتگان کیلئے مہنگائی ریلیف کی ایک اضافی قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ یہ اضافہ قیمتوں کے بڑھنے کے عوض بیسک پے / پنشن کی 7 فیصد موجودہ شرح کے علاوہ دو فیصد ہوگی۔

مہنگائی بھتے اور مہنگائی ریلیف دونوں کو ملاکر خزانے پر 6112.20 کروڑ روپئے سالانہ اور مالی سال 19-2018 میں 4074.80 کروڑ روپئے (جولائی 2018 سے فروری 2019 تک آٹھ مہینے کےعرصے میں) بار پڑے گا۔

اس سے تقریباً 48 لاکھ 41 ہزار مرکزی سرکاری ملازمین اور 62 لاکھ 3 ہزار پنشن یافتگان کو فائدہ حاصل ہوگا۔

تنخواہوں اور پنشن میں یہ اضافہ منظور شدہ فارمولے کے مطابق ہے جو ساتویں مرکزی تنخواہ کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہے۔


سید خرم رضا


ملاحظہ فرمائیں 15اگست 2017 کو شائع کلدیپ نیر کا انٹرویو

کلدیپ نیر کسی تعارف کے محتاج نہیں انہوں نے آنکھیں غلام ہندوستان میں کھولیں لیکن آزاد ملک میں پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزاری۔ انہوں نے تقسیم کے درد کو نہ صرف جیا بلکہ اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ بھی کیا۔ انہوں نے جوانی میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے، جیل میں راتیں گزاریں اور اقتدار کے گلیاروں میں اہم کردار ادا کیا لیکن کبھی قدروں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ کلدیپ نیر وہ شخص ہیں جنہوں نے کبھی اپنے خیالات کے اظہار میں مصلحت سے کام نہیں لیا۔ ذاتی زندگی ہو یا سماجی زندگی اس میں کبھی کسی نے تضاد نہیں پایا۔ چند روز قبل قومی آواز کے مدیر اعلی ظفر آغا کی سرپرستی میں ان سے ملاقات ہوئی اور ملاقات کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے ’ایک دور‘ سے ملاقات کی ہو۔ اس ملاقات کے دوران ہم نے ان سے ان کی ذاتی زندگی، بٹوارےکے درد ، جناح کے خیالات اور آج کے ہندوستان پر تفصیل سے گفتگو کی۔ اس ملاقات میں آج کے ہندوستان پر ان کے درد کو محسوس کیا۔ پیش ہیں اس گفتگو کے چند اقتباسات۔

قومی آواز: کلدیپ جی آپ ہندوستان کے ان چند لوگوں میں سےہیں جنہوں نے ملک کی آزادی اور تقسیم دونوں کو دیکھا ہے،اس وقت آپ کی کیا عمر رہی ہوگی اور ملک کے حالات کیسے تھے؟

کلدیپ نیر : ملک کی آزادی اور تقسیم کے وقت میں سیالکوٹ شہر میں تھا جو آج پاکستا ن کا حصہ ہے۔ اس وقت یہ تو سبھی کو پتہ تھا کہ پاکستان بنے گا لیکن سر حد متعین نہیں ہوئی تھی اس لئے کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آگے کیا ہوگا کون سا حصہ پاکستان کے حصےمیں آئےگا اور کون سا ہندوستان کے حصےمیں۔ ہم جموں سے محض 14کلو میٹر دور تھے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ ہمیں جموں سے ملا دیا جائے گا۔

جب ریڈ کلف کا اوارڈ آیا تو بھی ہم پاکستان میں ہی تھے۔ بعد میں جب لندن میں میری ریڈکلف سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا آپ نے لائن کیسے کھینچی۔ انہوں نے کہا میرے پاس کوئی نقشہ ہی نہیں تھا، ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ تم گھوم کر دیکھ لو۔ راوی چناب الگ نظر آئے تو میں نے وہیں سے لائن کھینچ دی۔ جب ریڈ کلف تقسیم کی لائن کو طے کر رہے تھے تو کسی نے کہا کہ جناب آپ نےجو لکیر کھینچی ہے اس میں تو پاکستان کے پاس شہر ہی کوئی نہیں۔ ریڈکلف نے کہا، اچھا ایسا ہے ، توچلو لاہور کو پاکستا ن کو دےدیتے ہیں۔

قومی آواز: یعنی انگریزوں نے تقسیم کو محض ایک مذاق کی شکل میں لیا اور ان کایہ مذاق ہمارے لئےبہت تکلیف دہ ثابت ہوا۔اس پر آپ کی کیا رائے؟

کلدیپ نیر: بالکل، اور ہم بھی پاگل تھے جو ایسے ہی لڑتے رہے کہ یہ حصہ ادھر وہ حصہ ادھر ہے ۔ لڑنا تو اس بات کے لئے چاہئے تھا کہ یہ تقسیم نہیں ہوگی۔ کہنے کو تو مسلمان محض 12یا 15 فیصد رہے ہوں گے لیکن وہ سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے پھر یہ کام کس طرح ہو پاتا۔

قومی آواز: تو سیالکوٹ میں آپ تب تک رہے جب تک یہ ریڈ کلف اوارڈ آیا۔

کلدیپ نیر: میں نے اسی سال سیالکوٹ میں اپنی لا کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ اس وقت میرے والد کا شمار شہر کے بڑے ڈاکٹروں میں ہوتا تھا۔ لا پاس کرتے ہی میں نے سوچا کہ اب پریکٹس کروں گا لیکن ابھی گھر کے باہر تختی لگی بھی نہیں تھی کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ سیالکوٹ کی خاص بات یہ تھی کہ جب ملک کے دوسرے حصوں میں فسادات ہو رہے تھے تو سیالکوٹ میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ جب ہم سیالکوٹ سے چلے تو ابھی ریڈ کلف اوار ڈ کی لکیر کھینچی نہیں گئی تھی۔ میرا اور میرے خاندان کا خیال تھا کہ ابھی کچھ دن بعد جب ماحول ٹھیک ہو جائے گا تو ہم پھر واپس آ جائیں گے۔ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہم کبھی واپس نہیں آ پائیں گے۔

قومی آواز: تو کیا ا ٓپ جب سیالکوٹ سے رخصت ہوئے تھے تو اپناساز و سامان گھر چھوڑ کر آئے تھے؟

کلدیپ نیر: میں جب سیالکوٹ سے ہندوستان کے لئے چلنے والا تھا، روانہ ہونے سے پہلے ہم سبھی بھائیوں کو والد صاحب نے بلا کر پوچھاکہ تمہارا کیاارادہ ہے۔ میرے بھائی نے کہا کہ میں تو امرتسر میں رہوں گا، میں نے کہا کہ میں تو یہیں رہوں گا۔ میرے بھائی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہےوہ تمہیں یہاں رہنے نہیں دیں گے اور گھر سے نکال دیں گے۔ میں اس وقت یہ سوچتا تھا کہ ہمیں یہاں سے کوئی کیوں نکالے گا، جس طرح مسلمان پاکستان میں رہیں گے اسی طرح ہم بھی یہاں رہ لیں گے۔ میرا بھائی کہتا تھا کہ اس نے امرتسر میں بڑا خوفناک منظر دیکھا ہےاسی لئے ہمیں یہاں کوئی نہیں رہنے دے گا۔

جب میں سیالکوٹ سے ہندوستان کے لئے روانہ ہونے لگا تو میری ماں نے کہا کہ بیٹا مجھےایسا لگ رہا کہ شاید اب تم واپس نہیں آ پاؤگے، جب کہ میرے ذہن میں تھا کہ میں ابھی چلا جاؤ ں اور حالات ٹھیک ہونے پر واپس آ جاؤ ں گا۔ سیالکوٹ مین روڈ سے تھوڑا سا ہٹ کر ہے، جیسے ہی ہم مین روڈ پر آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہے اور اس کو دیکھ کر تو ہم حیرت زدہ رہ گئے۔ کوئی کارواں پاکستان آ رہا ہے کوئی ہندوستان جا رہا ہے ، وہ نظارہ دیکھتے ہی سمجھ میں آ گیا کہ اب واپس لوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اور میں اکیلے ہی دہلی آ گیا اور یہاں اسٹیٹس مین اخبار میں ملازمت کی۔

قومی آواز: راستے میں حالات کیسے تھے؟

کلدیپ نیر: راستے میں سیالکوٹ سے لے کر سمبڑیال تک کچھ نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی ہم ادھر پہنچے تو دیکھا کہ لاشیں پڑی ہوئی ہیں، سامان بکھرا ہوا ہے، جس سے ظاہر تھا کہ فساد ہو چکا تھا۔ ہم چونکہ آزادی کے وقت تو وہیں رہے ، اس وقت ہم ریڈیو پر پنڈت نہرو وغیرہ کی تقاریر سنا کرتے تھے اور ہمیں کبھی اندازہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا بڑا فساد ہو سکتا ہے۔ ویسےکالج کے وقت ہی ہمیں احساس تو ہو گیا تھا کہ اب ہم تقسیم ہو جائیں گے ۔ میرے تو سارے دوست ہی مسلمان تھے میرا ایک بھی دوست ہندو نہیں تھا۔لیکن ہمیں اس وقت بتایا جاتا تھا کہ بارڈر بہت آسان رہے گا اور لوگ اپنی مرضی سے آیا جایا کریں گے، لیکن ویسا ہوا کبھی نہیں ۔

دہلی پہنچ کر میں اپنی خالہ کے گھر رہا جو جامع مسجد کے قریب رہتی تھیں ۔ میں اکثر جامع مسجد میں جایا کرتا تھا اور وہاں کے مسیتا کے کباب مجھے ابھی تک یاد ہیں۔ وہاں پر ایک آدمی مجھے روز دیکھتا تھا، ایک دن اس نے مجھے سے پوچھ کہ تم کچھ کام وام نہیں کرتے، کتنا پڑھے ہو؟ میں نے کہا بی اے آنرس، ایل ایل بی۔ وہ بولا چلو میں تمہیں کام دلواتا ہوں ۔ میں نے کہا میں کلرک نہیں بنوں گا ، اس نے کہا تو کیا افسر بنو گے؟ میں نے کہا وہ تو میں نہیں کہتا لیکن کلرک نہیں بنوں گا ۔ اس کے پوچھنے پر کہ کیا میں اردو جانتا ہوں تو میں نے بتایا کہ میں اردو اور فارسی دونوں ہی بہت اچھی جانتا ہوں۔ پھر وہ بولا کہ ایک ’انجام ‘ نام کا اخبار ہے اور ان کو ایک ایسے ہندو کی تلاش ہے جو اردو جانتا ہو۔ اس نے مجھے اخبار کے مالک یاسین سے ملوایا اور مجھے ملازمت مل گئی۔ یہ تھی میری پہلی ملازمت جس میں میری تنخواہ 100روپے ماہانہ تھی ، جب میں نے پہلی تنخواہ اپنی ماں کو دی تو وہ بولیں کہ یہ زیادہ تو نہیں ہیں لیکن جلد ہی تم ترقی کرو گے میں پیشین گوئی کرتی ہوں۔اس وقت کے مشہور اردوشاعر مولانا حسرت موہانی بھی وہیں رہتے تھے ، انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اردو کا مستقبل ہندوستان میں تو اب نظر نہیں آتا اس لئے تم انگریزی کی طرف چلے جاؤ۔ ان دنوں بیرون ملک جانا بہت آسان تھا تو میں امریکہ چلا گیااور وہاں جرنلزم کا کورس کیا۔ جب دہلی واپس آیا تو یہاں یو پی ایس سی کے امتحان چل رہے تھے ۔میں نے انفارمیشن آفیسر کا امتحان دیا اور کامیاب ہو گیا ۔

قومی آواز : آپ نے بٹوارا دیکھا ہے اور اس کی نفرت کو بھی محسوس کیا، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس نفرت کو آج دوبارہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ آپ کا اس تعلق سے کیا خیال ہے؟

کلدیپ نیر: کبھی مجھے لگتا ہے کہ جیسے حالات سنہ45 کے تھے اور مسلمانوں کے ذہنوں میں ز ہر بھرا ہوا تھا ویسے ہی نفرت کے حالات آج بھی ہیں ۔جناح کا کہنا تھا کہ ہندو اورمسلمان دو الگ ملک میں ہی رہ سکتے ہیں اور جناح کی یہ بات مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی ۔ ہم کالج کے وقت ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے اور کبھی یہ بات ذہن میں آئی ہی نہیں کہ ہم الگ الگ ہو جائیں گے ۔

سیالکوٹ میں پہلےہم جہاں رہتے تھے اس کے ساتھ ایک باغیچہ بھی تھا ۔ وہاں پر ایک قبربھی تھی ۔ ماں کہا کرتی تھی کہ یہ پیر صاحب کی قبر ہے یہاں پر ہر جمعرات کو چراغ جلانا ہے اور ہم ویسا ہی کرتے بھی تھے۔ میں جب ایمرجنسی میں قید تھا تو و ہی پیر صاحب میرے خواب میں آئے اور انہوں نے کہا کہ تمہیں اگلی جمعرات کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اس خواب کے بعد مجھے جمعرات کا انتظار بڑی شدت سے تھا۔ جمعرات آئی اور آکر چلی گئی لیکن اگلے دن یعنی جمعہ کو جیل کا چوکیدار آیا اور مجھے اٹھاکر بولا تمہاری رہائی کا حکم آ گیا ہے، تیار ہو جاؤ ۔ میں نے پوچھا یہ حکم کب آیا ہے تو اس نے بتایا کہ حکم تو کل رات (جمعرات) کو ہی آ گیا تھا لیکن رات کو دیر ہو گئی تھی تو ہم نے سوچا کہ صبح بتا دیں گے۔

قومی آواز: آپ نے کبھی تصور کیا تھا کہ جب ملک تقسیم ہو جائے گا تو ہندوستان کے حالات پاکستان جیسے ہو جائیں گے؟

کلدیپ نیر: نہیں۔ ایسا کبھی تصور بھی نہیں کیا۔ یہاں آنے کے بعد گاندھی ، نہرو، مولانا آزاد کو ہم سنا کرتے تھے، بی جے پی تو اس وقت تھی ہی نہیں، ہاں پاکستان کی مخالفت میں ضرور کبھی کبھی مسلم مخالف باتیں ہوتی تھیں۔

قومی آواز: کیا مودی کا ہندوستان جناح کے پاکستان سے ملتا ہواہے؟

کلدیپ نیر: دیکھئے، اس وقت جناح الگ ملک کی بات تو کرتا تھا لیکن اس کے دل میں اتنی نفرت نہیں تھی۔ آج ملک میں17-18 کروڑ مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نہ گورنمنٹ میں مسلمانوں کی کوئی حصہ داری ہے اور نہ ہی پرائیویٹ سیکٹر میں ۔یہ ٹھیک ہے کہ مارکاٹ نہیں ہوتی لیکن کیا ان کا کوئی وجود ہے،اور حقیقت تو یہ ہے کہ اب مسلمانوں نے بھی اس حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے۔

قومی آواز : نئی حکومت آنے کے بعد سے نفرت کتنی بڑھی ہے؟َ

کلدیپ نیر: ہاں نئی حکومت آنے کے بعد نفرتیں بڑھیں ہیں۔

قومی آواز: کیا ہم دوسری تقسیم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

کلدیپ نیر: ویسی تقسیم بھلے ہی نہ ہو لیکن یہ بھی تقسیم کی ہی شکل ہے کہ آج مسلمان عام طور پر الگ رہنا پسند کر رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کے دلوں میں بڑا خوف ہے اور ویسے بھی مسلمانوں کو الگ تھلگ تو کر ہی دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں (وسنت وہار، دہلی) میں محض ایک مسلمان کی جائداد ہے اور کسی کی بھی نہیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں آج اس قدر خوف ہے کہ ان سے اگر الیکشن کےبارے میں پوچھو تو کہتے ہیں کہ آج مسلمانوں کو الیکشن کی فکر نہیں ہے ، ہماری تو جان کی حفاظت ہو جائے وہی بہت ہے۔

قومی آواز: آپ سے بات کرتے ہوئے ذہن میں ایک سوال آیا، جناح مسلمانوں سے یہی کہتے تھے کہ یہاں اگر رہو گے تو تم دوسرے درجے کے شہری ہو جاؤگے۔ اس پرآ پ کی کیا رائے ہے ؟

کلدیپ نیر: نہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ جناح نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہندوستان میں رہو گے تو تم پر کوئی ظلم ہوگا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بھی ملک ہوگا ، وہ بھی ملک ہوگا، دونوں مماملک میں اقلیتوں کو برابر حقوق ملیں گے

قومی آواز: پاکستان کے قیام سے پہلے تو جناح یہی کہا کرتے تھے کہ اگر تم یہاں رکے تو تمہیں کوئی حقوق نہیں ملیں گے؟

کلدیپ نیر: اس وقت پاکستان کے حق میں اپیل کرنے کے لئے وہ کئی باتیں کہتے تھے۔ جب میں لا کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو 1946 میں قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے کالج میں تشریف لائے تھے ۔ انہوں نے تقریر میں وہی سب کچھ کہا جو وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں وغیر وغیرہ۔ اس وقت میں نے جناح سے دو سوال کئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ مان لیں کہ پاکستان کا قیام ہو چکا ہے، اب یہ بتائیں کہ اگرایک تیسری طاقت ہندوستان پر حملہ کر دیتی ہے تو پاکستان کارویہ کیا رہے گا؟ انہوں نے کہا کہ نوجوان ! ہماری طرف کےجوان آپ کی طرف کے جوانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ دونوں طرف سے خون برابر بہے گا اور ہم دشمن کے دانت کھٹے کر دیں گے۔ جب میں شاستری جی کے ساتھ کام کیا کرتا تھا، میں نے ان سے یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا کہ جب چین نے 1962 میں ہندوستان پر حملہ کیا اس وقت اگر پاکستان ہماری مدد کرتا اور اس کے بعد پاکستان ہم سے کشمیر مانگتا تو ہمیں اسے نہ کرنی مشکل ہوجاتی ۔

قومی آواز : آج کے ہندوستان میں آپ خود کو کیسا محسوس کر رہے ہیں، کیا یہ وہی ہندوستان ہے جو گاندھی اور نہرو بنانا چاہتے تھے؟

کلدیپ نیر: نہیں بالکل علیحدہ ہے۔ گاندھی ،نہرو یا آزاد کا یہ خواب تھا کہ یہ ملک ایسا ہوگا جہاں سب کا اپنا اپنا مذہب ہوگا لیکن حقوق سب کے برابر ہوں گے۔ سب ایک دوسرے کے لئے کوشش کریں گے۔ایک بار باپو کی سبھا(اجلاس) ہو رہی تھی تو ایک پنجابی نے کہا کہ باپو ہم سبھا میں بار بار پاکستان کا ذکر نہیں سننا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نہیں سننا چاہتےتو یہ سبھا نہیں ہوگی۔ تین دن تک جب سبھا نہیں ہوئی تو اس شخص نے جاکر باپو سے کہا کہ میں شرمندہ ہوں مجھے یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی ، اس کے بعد گاندھی جی نے سبھاکی۔تقسیم ہند کے وقت بھی آر ایس ایس نے کوشش کی تھی کہ نفرتوں کو بڑھایا جائے لیکن اس وقت نفرت کی فضا نہیں تھی، لیکن آج مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں ۔ اور ہندوؤں نے بھی خود کو حکمران تصور کرنا شروع کر دیا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت بھی لوگوں کے دلوں میں اتنی زیادہ نفرتیں نہیں تھیں جتنی آج دکھائی دے رہی ہیں حالانکہ ہم اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے ، ایسا اس لئے تھا کیونکہ اس وقت کی حکومت نفرتوں کو کم کرنا چاہتی تھی لیکن آج کی حکومت نفرت کو فروغ دینے کا کام کر رہی ہے۔

قومی آواز: کیا آ پ کو کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے؟

کلدیپ نیر: ہندوستان میں انتہا پسندی زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ سکتی اور جو نفرتوں کا ماحول دکھائی دے رہا ہے وہ جلد ہی بدل بھی جائے گا۔ ہندوستان میں جمہوریت کا راج چلے گا اور اگر کوئی ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو عوام اس سے اقتدار چھین لیں گے۔

[ قومی آواز سے ]

Image result for images - swachh bharat gramin 2018
نئی دہلی، پینے کے پانی اورصفائی ستھرائی کے امور کی مرکزی وزیر محترمہ اومابھارتی نے ، ملک ک ے شہریوں سے صفائی ستھرائی کے کلیدی معیارات کی ملک کی ریاستوں اور اضلاع پر درجہ بندی کی خاطر پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے امور کی وزارت کی جانب سے شروع کئے جانے والے سووچھ سرویکشن گرامین 2018 میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔ کھلے میں رفع حاجت سے نجات پانے کے ہفتے اور سووچھ سرویکشن گرامین 2018 کے آغاز پر اتراکھنڈ کے ضلع سری نگر کی گڑھوال یونیورسٹی کے احاطے میں ایک تقریب سے خطاب کےدوران محترمہ اومابھارتی نے سووچھ بھارت گرامین 2018 کی تفصیلات پرروشنی ڈالی ۔

صفائی ستھرائی کے عالمی معیار کی پاسداری کے لئے اتراکھنڈ کی ریاستی سرکار کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سووچھ سرویکشن گرامین میں ماحولیاتی صفائی میں بہتری اورتمام عوامی مقامات پر اور ریاست کے تمام مواضعات میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صفائی ستھرائی کے کام کی کامیابی کو اسی صورت میں کامیاب بنایاجاسکتا ہے ،جبکہ عام لوگ اپنی زندگی کی راستوں کو صاف ستھرا بنائے رکھیں اور صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری پیدا کرنے کے لئے کام کریں ۔اس موقع پر محترمہ اوما بھارتی نے خاص طور سے نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنے گاؤوں میں صفائی ستھرائی کے کام کی ذمہ داری سنبھالیں اور سووچھ سرویکشن گرامین میں زبردست اکثریت کے ساتھ شامل ہوں ۔

اس موقع پر پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی وزارت کے سووچھ بھارت مشن گرامین کے جوائنٹ سکریٹری جناب ارون بروکا نے سووچھ بھارت سرویکشن 2018 کی کلیدی عناصر پر روشنی ڈالی ۔

واضح ہوکہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی وزارت (ایم ڈی ڈبلیو ایس ) نے ایک خود مختار ایجنسی کے ذریعہ سووچھ بھارت سرویکشن گرامیں 2018 (ایس ایس جی 2018) کا اہتمام کیا ہے ۔جس کا مقصد کثرتی اورمعیاراتی بنیاد پر صفائی ستھرائی (سووچھتا ) کے معیارات کے لئے ہندوستان کے تمام اضلاع کی درجہ بندی کرنا ہے ۔ یہ درجہ بندی ضلعی سطح پر اسکولوں ،آنگن واڑیوں ، پی ایچ سی ،ہاٹ بازار ، پنچایتوں اور دیگر عوامی مقامات کی صفائی کے جامع معیارات پر مبنی ہوگی ۔ اس سرویکشن پروگرام کے جزو کی حیثیت سے ملک کی تمام ریاستوں اور اضلاع کی درجہ بندی ان کی صفائی ستھرائی کی نوعیت کی بنا پر کی جائے گی اور اس میدان میں بہترین اور مثالی کام کرنے والی ریاستوں اور اضلاع کو دواکتوبر 2018 کو اعزازات سے نوازا جائے گا۔

Image result for images -sea cargo
نئی دہلی، اِن لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا یعنی آئی ڈبلیو اے آئی نے ایک مخصوص پورٹل کا آغاز کیاہے جس کا مقصد کارگو مالکان اور بحری جہازوں کے ذریعہ ان کا نقل وحمل کرنے والے افراد کو باہم مربوط کرنا ہے ۔یعنی کارگو مالکان دستیاب بحری جہازوں کا رئیل ٹائم ڈاٹا اس پورٹل کے ذریعہ حاصل کرسکیں گے ۔ یہ سنگ میل ای – رابطہ قدم بحری جہاز چلانے والوں ، شپرز اور کارگومالکان کے مابین براہ راست رابطہ فراہم کرے گا کیونکہ فی الحال ایسا کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں ہے جس کے ذریعہ منڈی میں دستیاب بحری جہازوں کی کیفیت جانی جاسکے ۔ اسے اندرون خانہ ہی آئی ٹی کے محکمے اور آئی ڈبلیو اے آئی کے نقل وحمل ونگ نے مختلف آبی راستوں پر جاری صلاحیت سازی کے عمل کے سلسلے میں اپنے وسائل کے بہتر سے بہتر استعمال کے تئیں تیاری کے ایک حصے کے طور پر فراہم کیا ہے ۔

اس کا نام فورم آف کارگو اونرس اینڈ لاجسٹکس آپریٹرز (ایف او سی اے ایل ) رکھا گیا ہے ۔اس پورٹل کا لنک آئی ڈبلیو اے آئی کے ہوم پیج کے ویب سائٹ درج ذیل پر دستیاب ہے :www.iwai.nic.in.

اس موقع پر پورٹل کا آغاز کرتے ہوئے آئی ڈبلیو اے آئی کی صدر نشین محترمہ نوتن گوہا بسواس نے کہا کہ یہ قدم بھارت میں کلیدی دخل اندازی جو طبیعاتی طور پر بھی کی جانی ہے اور اسے حقوق املاک دانشوراں کی شکل میں شکل میں فراہم کرایا جانا ہے ،کے ذریعہ اندرون ملک آبی نقل وحمل کو فروغ دینے کے آئی ڈبلیو اے آئی کے عہد کے عین مطابق ہے ۔

ایف اوسی ایل کارگو مالکان کے ذریعہ پیش کی جانے والی ضروریات کے سلسلے میں لاجسٹکس آپریٹروں کے رد عمل کا راستہ ہموار کرے گا۔ صارفین بحری جہازوں کی دستیابی اور تفصیلات کے سلسلے میں اپنا نام پورٹل پر درج رجسٹر کرواسکتے ہیں۔کارگو مالکان اس سلسلے میں اپنی جانب سے کارگو کی ابتدا ،اس کی منزل ،اس کا ٹائپ وغیرہ بھی تفصیل کے ساتھ پیش کرسکیں گے ۔

ایک سہولت فراہم کرنے والے اور سر پرست ادارے کے طور پر آئی ڈبلیو اے آئی کے پاس ازخود متعدد بحری جہاز دستیاب ہیں اور یہ ادارہ آئی ڈبلیو ٹی کے سلسلے میں تکنیکی اور کاروباری افادیت کے حصول کے لئے سرگرمی سے کوشاں ہے ۔ حکومت قومی آبی راستوں کو ترقی دے رہی ہے اور یہ ایک اہم نقل وحمل دخل اندازی ہے ، جو مربوط نقل وحمل نیٹ ورک حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔اس کی مددسے موڈل مکس نقل وحمل کی خامیوںکو دور کیا جاسکے گا اور بری فوج کو لاجسٹکس پر جو لاگت برداشت کرنی پڑتی ہے ، اس میں تخفف واقع ہوگی۔ فی الحال بھارت میں لاجسٹکس کی لاگت مجموعی گھریلو پیداوار کے مقابلے میں 15فیصد ہے ،جو امریکہ کے مقابلے میں تقریباََ دوگنا ہے ۔

نئی دہلی، حکومت ہند نے یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء کے لئے ‘‘سووچھ بھارت سمر اِنٹرن شپ-سووچھتا کے 100 گھنٹے’’کا آغاز کیا ہے۔اس کے تحت طلباء کو اپنے ادارے کی منظوری اور اپنے منتخب کردہ گاوؤں میں Image result for images -- swachh bharat internshipسووچھتا سے متعلق سرگرمیوں کے لئے تقریباً 100 گھنٹے لگانے ہوں گے۔اس اِنٹرن شپ میں شرکت کرنے والے طلباء صفائی ستھرائی کے بارے میں گاوؤں کے لوگوں میں بیداری لانے کے لئے اطلاعاتی ، تعلیمی اور مواصلاتی سرگرمیاں انجام دیں گے۔طلباء گاوؤں میں ٹھوس کچرے کے بندوبست سے متعلق سرگرمیاں بھی انجام دیں گے۔

اِنٹرن شپ کی تکمیل پر اِنٹرن شپ پروگرام کے سبھی شرکاء کو سووچھ بھارت سمر اِنٹرن شپ سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ان سرٹیفکیٹ کے علاوہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اِنٹرن کو کالج کی سطح پر شیلڈ؍کپ اور یونیورسٹی کی سطح پر 30ہزار ، 20ہزار اور 10ہزار روپے کے نقد انعامات دیئے جائیں گے۔ریاستی سطح پر نقد انعام کی رقم 50ہزار ، 30 ہزار اور20 ہزار روپے ہوگی، جبکہ قومی سطح پر انعامی رقم دو لاکھ، ایک لاکھ اور50 ہزار روپے ہوگی۔

یہ اطلاع فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے لوک سبھا میں آج ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

Image result for images -- meghalaya election
نئی دہلی/  بھارت کے چناؤ کمیشن( ای سی آئی) نے میگھالیہ میں رانی کور(ایس ٹی) اسمبلی حلقے کے ضمنی چناؤ کا اعلان کردیا ہے۔حلقے میں پولنگ 23 اگست 2018 کو ہوگی جب کہ ووٹوں کی گنتی 27اگست 2018 کو کی جائے گی۔

چناؤ کمیشن نے مقامی تہوار، چناؤ فہرستوں اور موسم کی صورت حال جیسے مختلف عناصر کو دھیان میں رکھتے ہوئے ضمنی انتخابات کے لئے مندرج ذیل پروگرام کاا علان کیا ہے۔

انتخابی کارروائیاں 

شیڈول

گزٹ نوٹیفیکشن جاری کرنے کی 

30.07.2018 (پیر)

کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 

(پیر)06.08.2018 

کاغذات کی جانچ پڑتال کی تاریخ 

( منگل)07.08.2018

امیدواروں کے نام واپس لینے کی آخری تاریخ 

(جمعرات)09.08.2018

پولنگ کی تاریخ 

(جمعرات)23.08.2018

ووٹوں ک گنتی کی تاریخ 

(پیر)27.08.2018

جس تاریخ سے پہلے چناؤ مکمل ہونے ہیں 

(بدھ)29.08.2018
اسمبلی حلقے کے لئے چناؤ فہرست میں یکم جنوری 2018 کو شائع کی گئی تھی۔

کمیشن نے ضمنی انتخابات تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حلقے کے لئے مناسب تعداد میں ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی دستیاب کرائی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات کئے گئے ہیں کہ چناؤ خوش اسلوبی سے منعقد ہوں۔






Image result for images - women empower
نئی دہلی/ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ سینٹرل وقف کونسل نے درزی کے کام کی تربیت کے علاوہ نیٹنگ ، ڈبہ بند خوراک، دردوزی، کپڑے کی چھپائی وغیرہ جیسے تجارتی شعبوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے انہیں تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں تجاویز طلب کی گئی ہیں۔وقف کونسل نے سول سروسز کے لئے 50 طلبا کے واسطے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کوچنگ سینٹروں اور سول سروسز کے لئے 50 اور ایس ایس سی۔سی جی ا یل/ بینک پروبیشنری آفیسر امتحانات کے لئے50 طلبا کے واسطے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کے کوچنگ سینٹروں کے ذریعہ روزگار کے لئے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مسلم طلبا کی کوچنگ کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اقلیتی امور کی وزارت نوٹیفائی کئے گئے اقلیتوں کو تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانے کے لئے کئی اسکیمیں نافذ کررہی ہے۔ پری میٹرک اسکالر شپ اسکیم تسلیم شدہ سرکاری/ پرائیویٹ اسکولوں میں پہلی سے دسویں کلاس میں پڑھنے والے اقلیتی طلبا کو فراہم کی گئی ہے۔لڑکیوں کے لئے کم سے کم تیس فیصد اسکالر شپ مختص کی گئی ہے۔

اس کے واسطے اہل ہونے کے لئے طالبعلم نےسابقہ کلاس میں کم سے کم پچاس فیصد نمبر حاصل کئے ہوں۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم تسلیم شدہ سرکاری / پرائیویٹ اسکولوں/ کالجوں/ اداروں میں 11 ویں کلاس سے پی ایچ ڈی سطح تک پڑھ رہے اقلیتی طلبا کو فراہم کی گئی ہے۔ لڑکیوں کے لئے کم از کم تیس فیصد اسکالر شپ مختص کی گئی ہے۔ اس کے لئے اہل ہونے کے واسطے سابقہ کلاس میں طلبا نے کم از کم پچاس فیصد نمبر حاصل کئے ہوں۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ میرٹ کم مینس اسکالر شپ اسکیم پیشہ وارانہ اور تکنیکی کورسیز اپنانے کے لئے دی گئی ہے۔ یہ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر دی جاتی ہے اور مناسب اتھارٹی کے ذریعہ تسلیم شدہ اداروں میں پڑھنے وا لے طلبا کو دی جاتی ہے اس اسکیم کے تحت لڑکیوں کے لئے تیس فیصد اسکالر شپ مختص کی گئی ہے ۔ 

Image result for images - old age personنئی دہلی، حکومت آیوش نظام طب کے تحت بزرگوں کو زیادہ سے زیادہ خدمات دستیاب کراتی ہے، چونکہ صحت ریاستی موضوع ہے، لہٰذا گاوؤں میں بزرگوں کے لئے خصوصی کلینک کھولنے کا معاملہ متعلقہ ریاستی ؍مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

تاہم قومی آیوش مشن (این اے ایم) جیسی مرکزی اسکیم کے تحت 50 بستروں والے آیوش اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں آیوش کی سہولت دستیاب کرانے کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کا التزام ہے۔لہٰذا ریاستی؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتیں این اے ایم کے رہنما ہدایات کے مطابق ریاستی سالانہ کارروائی منصوبہ(ایس اے اے پی) میں اپنی ضرورتیں پیش کرکے مدد حاصل کرسکتی ہیں۔مزید برآں این اے ایم کے تحت آیوش اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ضروری دوائیں سپلائی کرنے کا التزام ہے، جس کے توسط سے عوام بشمول بزرگ افراد مفت خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس) بزرگوں کو اپنی 23کلینکل یونٹوں کو جو کہ ملک بھر میں قائم ہیں، کے توسط سے صحت خدمات دستیاب کرارہی ہے۔سی سی آر اے ایس آیوش کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ ہے۔ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن ہومیوپتھی بزرگوں کو اپنے 23 ریسرچ سینٹروں اور 8 پیری فیرل آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹس(او پی ڈی)، جو کہ ملک بھر میں قائم ہیں، کے توسط سے صحت خدمات دستیاب کرارہی ہے۔یہ آیوش کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ ہے۔

سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن سدھ(سی سی آر اے ایس) بھی بزرگوں کو خصوصی اوپی ڈی خدمات دستیاب کرا رہی ہے۔ یہ آیوش کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سدھ(این آئی ایس) بھی بزرگوں کے لئے خصوصی اوپی ڈی خدمات دستیاب کراتا ہے۔ یہاں بزرگ مریضوں کو اِ ن ڈور پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (آئی پی ڈی) چارجز نہیں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ آیوش کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ ہے۔

یہ اطلاع آیوش کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، شری پد یسونائک نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

نی دلّی -
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دیوریا ضلع کے ان پرائمری اسکولوں کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے جہاں اسکول کے نام کے ساتھ ’اسلامیہ‘ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ ان اسکولوں میں ہفتہ وار تعطیل اتوار کی جگہ جمعہ کو ہوتی ہے۔ دیوریا ضلع کے تقریباً 6 پرائمری اسکولوں میں اس طرح کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’اس طرح کی شرارت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ریاست میں اسکول کسی ذات یا مذہب کی شکل میں نہیں رہیں گے۔‘‘

دراصل جب مڈ ڈے میل آڈٹ کے دوران سلیم پور ڈویژنل ایجوکیشن افسر نے دیکھا کہ ’اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ، نول پور‘ میں مڈ ڈے میل میں جمعہ کو طلبا کی تعداد صفر دکھائی جا رہی ہے اور اتوار کو رجسٹر میں بچوں کو کھانا دیا جا رہا ہے، تو انھوں نے حقیقت پتہ کرنے کی کوشش کی۔ جب انھیں پتہ چلا کہ بیسک ایجوکیشن کونسل کے تحت چل رہے پرائمری اسکول کے نام میں ’اسلامیہ‘ لفظ لگا ہوا ہے اور ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے تو انھوں نے حیرانی ظاہر کی۔ یہ خبر وزیر اعلیٰ تک بھی پہنچی جس کے بعد انھوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’پرائمری اسکول بیسک ایجوکیشن کونسل کے تحت ہی رہیں گے۔ پرائمری اسکول کی جو پہچان ہے وہی رہے گی۔ کسی ذات یا مذہب کی شکل میں اسکولوں کی پہچان نہیں ہوگی اور اس طرح کی کسی بھی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ذرائع کے مطابق دیوریا ضلع کے سلیم پور تحصیل کے نول پور گاؤں واقع پرائمری اسکول کی بلڈنگ پربھی اسکول کا نام ’اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ نول پور‘ لکھا ہوا ہے جس کے بارے میں یہ خبر پھیل رہی ہے کہ اسکول کا نام بدل کر یہ نام رکھا گیا ہے۔ لوگوں میں یہ افواہ تک پھیلنے لگی کہ سرکاری اسکول کو مدرسے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس افواہ کے پھیلنے کے بعد بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں افرا تفری پھیل گئی۔ حالانکہ اسکول کے اساتذہ اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ اسکول کو مدرسہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسکول بلڈنگ پر اسکول کا نام ’اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ، نول پور‘ بہت زمانے پہلے سے ہی لکھا ہوا دیکھ رہے ہیں اور جمعہ کی تعطیل بھی بہت پہلے سے ہو رہی ہے۔ ایسا کب ہوا اس سلسلے میں حتمی طور پر انھیں کچھ نہیں معلوم۔

ہنگامہ برپا ہونے کے بعد دیوریا کے ضلع مجسٹریٹ سجیت کمار نے بیسک ایجوکیشن افسر سے ’اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ‘ سے متعلق جانچ کرنے کو کہا اور اس کی مکمل تفصیلات طلب کی۔ بیسک ایجوکیشن افسر سنتوش کمار پانڈے نے جو تفتیش کی اس میں پایا کہ کاغذوں اور رجسٹر پر اسکول کا نام راجکیہ پراتھمک ودیالیہ ہے جب کہ اسکول کا بورڈ اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ کے طور پر لکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی دیوریا ضلع میں ایسے 6 اسکولوں کے بارے میں پتہ چلا جو ’راجکیہ پراتھمک ودیالیہ‘ ہیں لیکن اس کی جگہ بلڈنگ پر اسکول کا نام ’اسلامیہ پراتھمک ودیالیہ‘ لکھا گیا ہے۔ یہاں بچوں کے نام اور اساتذہ کے دستخط کے ساتھ ساتھ ذریعہ تعلیم اُردو ہے۔ یہی سبب ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ برہم نظر آ رہے ہیں اور فوری طور پر ان کا نام بدلنے کی ہدایت دی ہے۔

اس سلسلے میں بیسک ایجوکیشن افسر سنتوش کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ جانچ میں جن 6 اسکولوں کا نام تبدیل شدہ ظاہر ہوا ہے وہ خاموشی کے ساتھ اسکولی نظام مدرسوں کی طرح چلا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ سب کس نے کیا اور کب سے شروع ہوا۔ ساتھ ہی سنتوش کمار پانڈے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان اسکولوں کا نام اب پرائمری اسکول میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور جمعہ کی جگہ چھٹی اتوار کو ہی ہوگی۔

ان اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں سے جب اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ طویل مدت سے اسکول بلڈنگ پر یہ نام لکھے جاتے رہے ہیں اور جمعہ کی چھٹی بھی نئی نہیں ہے، پھر اس طرح کا ہنگامہ کیوں! ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے تویہاں تک کہا کہ اسکولوں کے نام میں اسلامیہ لکھنے کی روایت 1904 سے ہے جب یہ اسکول قائم ہوا تھا۔ جمعہ کی چھٹی کے تعلق سے ان اسکولوں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کوئی سرکاری حکم نہیں ہے لیکن یہاں مسلم طبقہ کے 60 سے 80 فیصد بچے پڑھتے ہیں اور یہاں کے سبھی ٹیچر بھی مسلم ہیں اس لیے اتوار کی جگہ جمعہ کو چھٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

6 پرائمری اسکولوں میں سے ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر خورشید احمد نے ایک ہندی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ وہ 2008 میں ہیڈ ماسٹر بنے اور اس وقت سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے، یہاں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ان سے پہلے جب بچیا دیوی اس اسکول کی ہیڈ ماسٹر تھیں تو ان کے وقت میں بھی سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا اور یہ روایت 1904 سے ہی چلی آ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسکول کو مدرسہ میں تبدیل کرنے کی بات بھی غلط ہے اور کوئی نئی روایت شروع کرنے کی کوشش بھی نہیں ہوئی ہے۔
[قومی آواز سے ]

Image result for images - indian farmerنئی دہلی، اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی ، سی سی ای اے نے مراٹھواڑہ ، ودربھ اور مہاراشٹر کے خشک سالی کے زیادہ امکان والے علاقوں نے آب پاشی کے 83 چھوٹے پروجیکٹوں اور 8 بڑے ؍ اوسط درجے کے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی خاطر مرکزی اسکیم کو نافذ کرنے کی منظوری دی ہے۔

اثرات:

ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے ان پروجیکٹو کے تحت آنے والے علاقوں میں کسانوں کو پانی کی یقینی سپلائی میسر ہوسکے گی۔ اس سے ان کی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی بھی بڑھے گی۔

تفصیلات:

خصوصی پیکج سے مراٹھواڑہ ، ودربھ اور خشک سالی کے زیادہ امکان والے مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں 3.77 لاکھ ہیکٹر اراضی کی اضافی صلاحیت تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔

خصوصی پیکج کے تحت آنے والے پروجیکٹوں میں مہاراشٹر کے 26 بڑے ؍ اوسط درجے کے پروجیکٹوں کے علاوہ 8.501 ہیکٹر اراضی پر آب پاشی کے پروجیکٹ شامل ہیں جنہیں پی ایم کے ایس وائی – اے آئی بی پی کے تحت فنڈ فراہم کیا جارہا ہے اور انہیں دسمبر 2019 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

ان پروجیکٹوں کی پیش رفت کی نگرانی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مرکزی آبی کمیشن کے ذریعے بھی کی جائے گی۔

نئی دلّی ، وزیر اعظم  نریندر مودی نے گزشتہ روز یہا ں نئی دلّی میں وائی4 ڈی نیو انڈیا کانکلیو( اجتماع) سے خطاب کیا ۔
وزیر اعظم  نریندر مودی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ قوم آج تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے ۔ بھارت آج دنیا بھر میں سب سے تیز رفتاراقتصادی ترقی کرنے والا ملک بن گیاہے ۔ وزیر اعظم نے ایک بین الاقوامی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ بھارت میں غربت میں ریکارڈ تخفیف رو نما ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اپنا فعال کردار ادا کر سکتی ہے ، یہ نوجوان ہی ہیں جو نہ صرف دستیاب مواقع کا استعمال کر رہے ہیں ،بلکہ بذات خود نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی طمانیت اور قوت کی مانند بھارت بڑی تبدیلیاں عمل میں لا رہا ہے ۔

اس پس منظر میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران تین کروڑ بچوں کی ٹیکہ کاری کی گئی ، 1.75 لاکھ کلو میٹر دیہی سڑکوں کی تعمیر کی گئی ، ہر ایک گاؤں میں بجلی پہنچائی گئی ، اکتوبر ، 2017 سے 85 لاکھ گھروں کی برق کاری کی گئی ، غریبوں کے گھروں تک 4.65 کروڑ گیس کنکش پہنچائے گئے اورگزشتہ چار برسوں کے دوران ایک کروڑ سے زیادہ مکان غریبوں کے لئے تعمیر کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ سب اس وجہ سے ممکن ہو سکا کیونکہ بھارت کی 800ملین آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے ۔

وزیر اعظم نے ملک کے متعدد رہنماؤں کی مثال دی جنہوں نے انتہائی کمزور پس منظرسے عروج حاصل کیا ، اانہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ نئے بھارت کا نوجوان کیا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیل شدہ ماحول صرف سیاست تک ہی محدود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو سروسیز کے اعلیٰ عہدوں پر فائز متعدد نوجوان دیہی پس منظر یا چھوٹے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہیما داس ان جیسے اوردیگر نو جوان جو کہ ملک کے لئے کھیلوں کے میڈل لا رہے ہیں ، نئے بھارت کے نمائندہ ہیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ینگ انڈیا محسوس کرتا ہے کہ’’ کوئی بھی چیز ممکن ہے ! ہرچیز حاصل کی جا سکتی ہے ‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب مسائل سے چشم پوشی کے بجائے ان کا حل تلاش کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب قوم کی ضروریات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے اور لوگوں کی زندگی کو سہل بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی ضروریات کے پیش نظرکس طرح متعدداسکیمیں اور پہل قدمیاں مثلاً بھارت مالا ، ساگر مالا، مدرا ، اسٹینڈ اپ انڈیا اور آیوش مان بھارت وضع کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اختراعات اور تحقیق پر بڑی توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔

وزیر اعظم نے اس بات پر وزر دیا کہ نوجوان ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی اور ہمت نے ملک کی جدو جہد آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے اور یہی رول آج کے نوجوانوں کی نسل نئے بھارت کے لئے ادا کرے گی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نیو انڈیاایک ایسا مقام ہے جہاں خود عمل ترقی کال باعث بنتا ہے نہ کہ عوام متعلقہ عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

Image result for images- indian farmer
نئی دہلی، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیررادھا موہن سنگھ نے نئی دہلی میں منعقدہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے 90ویں یوم تاسیس اور تقسیم انعامات کی تقریب کے موقع پر ملک بھر کے کسانوں کے ساتھ ساتھ آئی سی اے آر کے سائنس دانوں اور اہل کاروں کو مبارک باد دی ہے۔ سنگھ نے کہا کہ آئی سی اے آر کی کوششوں سے نہ صرف ہندوستان کو درآمد کرنے والے ملک سے برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے، بلکہ اس نے خوردنی اجناس کی پیداوار کے معاملے میں خود کفالتی اور غذائی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ ہنرمند سائنس دانوں کی کوششوں اور کسانوں کی سخت محنت کے سبب آج ملک میں خوردنی اجناس کا بفر اسٹاک (محفوظ ذخیرہ) موجود ہے۔

سنگھ نے کہا کہ حکومت کے اصول سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی سمت میں کام کرتے ہوئے آئی سی اے آر نے انڈین
 ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی)، آسام اور آئی اے آر آئی، جھارکھنڈ قائم کیا ہے، جو کہ ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، آئی اے آر آئی، پوسا کی طرز پر ہیں۔ آئی سی اے آر 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے حکومت کے تصور کی تکمیل میں گراں قدر رول ادا کررہا ہے۔ کونسل کے مشوروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے بجٹ میں مختص کی گئی رقم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیری، کوآپریٹیو،

 ماہی پروری، مویشی پوری، زرعی بازار، چھوٹی آبپاشی اسکیموں، آبی ذخائر کے بندوبست وغیرہ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے متعدد کارپس فنڈز بھی قائم کئے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ مٹی صحت کارڈ اسکیم شروع کی گئی ہے، تاکہ بوائی سے قبل کسان اپنے کھیت کی مٹی کی صحت، اس میں کون سی فصل اگائی جائے اور اس میں کس مقدار میں اور کون سی تغذیہ بخش چیزیں استعمال کی جائیں، اس کے بارے میں جان سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ ’ہر کھیت کو پانی‘ کے مقصد سے پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت تقریباً 100 سینچائی پروجیکٹوں کی تکمیل کی جارہی ہے۔کسانوں کو بہتر قیمت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے آن لائن پلیٹ فارم ای-نیم کی شروعات کی گئی ہے۔ 

 حکومت نے 14 خریف فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت پیداوار لاگت کا ڈیڑھ گنا کرنے کے وعدے کی بھی تکمیل کی ہے۔
سنگھ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی اے آر کے ذریعے ڈیولپ کی گئی تکنیکوں اور کسانوں کی سخت محنت کی وجہ سے اس سال خوردنی اجناس کی پیداوار 275.68 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 2013-14 میں ہوئی پیداوار 265.04 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔ 

باغبانی سے متعلق پیداوار اس سال 305ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ ملک دالوں کی بہتر پیداوار کی سمت میں بھی پیش قدمی کررہا ہے اور اس سال تقریباً 23 ملین ٹن دالوں کی پیداوار ہوئی ہے، جو کہ خودکفالتی کے تقریباً نزدیک ہے۔ اس کی وجہ سے دالوں کی درآمدات میں کمی آئی ہے اور 2016-17 میں جہاں 10 لاکھ ٹن دالیں درآمد کی گئی تھیں، وہیں یہ 2017-18میں کم ہوکر 5.65 لاکھ رہ گئی۔ اس طرح سے ملک کو غیرملکی زرمبادلہ کی صورت میں 9775 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی۔ 

آئی سی اے آر کے ذریعے ڈیولپ کئے گئے باسمی چاول کی پوسا باسمتی 1121 قسم (ورائٹی)کے سبب ہر سال ہندوستان کو 18000 کروڑ سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ کی کمائی میں مدد ملتی ہے۔ 2010سے 2014 کے دوران ہندوستان کو برآمدات سے 62800 کروڑ روپئے کا غیرملکی زرمبادلہ حاصل ہوا تھا، جو کہ 2014 سے 2018 کے دوران بڑھ کر 71900 کروڑ روپئے ہوگیا۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق مسائل پر قابو پانے کے لئے 45 مربوط زرعی نظامات ڈیولپ کئے گئے ہیں، جس میں 15 زرعی – موسمی زون شامل ہیں۔ پرالی جلانے کے سبب ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فصل باقیات کے بندوبست کے لئے پروجیکٹ لاگت کے اسّی فیصد کے حساب سے مالی مدد دی جائے گی، تاکہ جہاں پر فصل کی باقیات موجود ہیں وہیں پر ان کے نمٹارے کے لئے کسٹم ہائرنگ کےمقصد سے فارم مشنری بینک قائم کئے جائیں۔ 

اسی طرح سے فصل باقیات کے نمٹارے کے لئے کسانوں کو انفرادی سطح پر مشنری ؍ آلات کے لئے 50 فیصد کی شرح سے مالی امداد دستیاب کرائی جائے گی۔ اس سلسلے میں آئی سی اے آر کے 35 کسان وکاس کیندروں میں ایک جامع مہم چلائی گئی تھی۔
45000کسانوں کے درمیان ایک بیداری مہم چلائی گئی اور کچرا بندوبست سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں 4708

 ہیکٹیئر رقبے میں 1200 لائیو ڈیمانسٹریشن کئے گئے۔
وزیر زراعت نے کہا کہ اسٹوڈنٹ ریڈی (رورل انٹرپرینیورشپ اویئرنیس ڈیولپمنٹ یوجنا- آر ای اے ڈی وائی)پروگرام جو کہ طلباء کے اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق ہے، کو اب مکمل ایک سال کا کردیا گیا ہے، تاکہ نوجوانوں کو زرعی تعلیم کی طرف مائل کیا جائے۔ ایگری سروسیز اینڈ بزنس بائی ہارنیسنگ یوتھ تھرو ایگریکلچرل اسکلس، یعنی زرعی خدمات اور زرعی ہنرمندی کے توسط سے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے کاروبار کے لائق بنانے کے پروگرام کے علاوہ ایک سالہ ڈپلوما شروع کرنے کی بھی تجویز ہے،

 جس سے نوجوانوں کو زراعت سے متعلق اطلاعات تک رسائی میں مدد ملے گی، جس سے انھیں روزگار حاصل کرنے یا خود کا کاروبار شروع کرنے کی سہولت دستیاب ہوگی۔ آئی سی اے آر کے ایگریکلچرل ریسرچ، تعلیم اور قومی سطح پر ایڈوانس لائن سرگرمیوں کی بدولت 750 سے زیادہ اسٹارٹ اَپس اور زرعی صنعت کاری کا فروغ ہوا ہے، جس میں زراعت کے مختلف شعبوں میں کسانوں کے ذریعے قائم کی گئی صنعت کاری شامل ہے۔ 24 آئی سی اے آر مراکز میں قائم کئے گئے ایگری بزنس اِن کیوبیشن سینٹرس میں صنعت کاروں کو تکنیکی تعاون دستیاب کرایا جارہا ہے۔
مرکزی وزیر نے اپنی بات یہ کہتے ہوئے ختم کی کہ ملک کو آئی سی اے آر کے سائنس دانوں کی کوششوں اور کسانوں کی سخت محنت پر پورا بھروسہ ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون سے ملک زرعی ترقی کی راہ پر تیزرفتاری کے ساتھ غیرمعمولی پیش رفت کرے گا۔

Image result for images - moon grahan
نئی دہلی، آئندہ 28-27 جولائی، کو ایک گھنٹہ 43 منٹ کا طویل مکمل چاند گرہن نظر آئے گا ۔ ایک گھنٹہ 43 منٹ تک قائم رہنے والا یہ مکمل چاند گرہن موجودہ صدی (2001 سے لے کر 2100) کا سب سے طویل مکمل چاند گرہن ہوگا۔

27 جولائی کو سرخ سیارہ مریخ بھی مخالف سمت میں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور مریخ ایک دوسرے کے بالمقابل ہوں گے اور کرۂ ارض وسط میں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں مریخ سیارہ کرۂ ارض کے قریب آجائے گا اور اس کے سبب یہ معمول کے مقابلے زیادہ روشن نظر آئے گا۔

 اس کو شام سے لے کر صبح صادق تک جولائی کے آخر تک دیکھا جاسکے گا۔ معمول سے زیادہ روشن سیارہ مریخ 28-27 کو آسمان میں چاند گرہن کے سب سے زیادہ قریب پہنچ جائے گا اور یہ مکمل چاند گرہن ننگی آنکھوں سے آسانی سے نظر آئے گا۔ تاہم سرخ سیارہ 31 جولائی 2018 کو کرۂ ارض کے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔ سیارہ مریخ بالعموم 2 سال اور دو مہینے کے اوسط وقفے پر کرۂ ارض کے بالمقابل آتا ہے۔ تب سیارہ مریخ ہماری زمین کے قریب آجاتا ہے اور یہ زیادہ روشن ہوجاتا ہے۔ اگست 2003 میں سیارہ مریخ جب زمین کے بالمقابل آیا تھا تو دونوں سیارے یعنی مریخ اور کرۂ ارض تقریباً 60،0000 برس کے دوری پر سب سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب آئے تھے۔

31 جولائی 2018 کو سیارہ مریخ سب سے زیادہ قریب ہوگا۔ اس طرح دونوں سیارے ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قریب ہوں گے اور سیارہ مریخ 2003 سےہی سب سے زیادہ روشن نظر آرہا ہے۔

27 جولائی کو ہندستانی وقت کے مطابق رات گیارہ بجکر 54 منٹ پر جزوی چاند گرہن کی شروعات ہوگی۔ پھر رفتہ رفتہ چاند زمین کے سائے سے ڈھک جائے گا اور مکمل چاند گرہن کاآغاز 28 جولائی کو ہندستانی وقت کے مطابق 1 بجکر صفر منٹ پر ہوگا۔ مکمل چاند گرہن 28 جولائی کو 2 گھنٹے 43 منٹ تک قائم رہے گا ۔ پھر اس کے بعد زمین کے سایے سے چاند کے باہر نکلنے کی شروعات ہوگی اور جزوی چاند گرہن 28 جولائی کو تین بجکر 49 منٹ پر ختم ہوجائے گا۔

اس خصوصی گرہن کے دوران چاند کرہ ارض کے ظلی سائے کے وسطی حصے سے ہوکر گزرے گا ۔مزید برآں چاند اپنے اوج مدار پر رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند 27 جولائی کو اپنےا وج مدار میں زمین سے سب سے زیادہ دوری پر رہے گا اور سست رفتار سے اپنے مدار میں گردش کرے گا۔ مکمل چاند کی یہ سست رفتار حرکت زیادہ دیر قائم رہے گی اور یہ کرۂ ارض کے ظلی سائے سے سب سے زیادہ دوری پر رہے گا۔ اس طرح سے یہ موجودہ صدی کا سب سے طویل مکمل چاند گرہن ثابت ہوگا۔

اس سے قبل 16 جولائی 2000 کو اس طرح کا طویل مکمل چاند گرہن دیکھنے میں آیا تھا۔ تب یہ مکمل چاند گرہن ایک گھنٹہ 46 منٹ طویل وقفے کا تھا۔ دوسر ا طویل چاند گرہن 15 جولائی 2011 کو نظر آیا تھا تب یہ ایک گھنٹہ 40 منٹ طویل وقفے کا تھا۔

اس مکمل چاند گرہن کو ہندستان کے تمام علاقوں سے آسانی کے ساتھ دیکھا جاسکے گا۔یہ مکمل چاند گرہن آسٹریلیا، ایشیا، روس (شمالی حصےکو چھوڑ کر) افریقہ، یورپ، جنوبی امریکہ کے شمال اور انٹارٹیکا پرمشتمل خطوں میں بھی نظر آئے گا۔

Image result for images -- https://eprocure.gov.in imageas
نئی دہلی، آبکاری ، بالواسطہ ٹیکسوں اور منشیات کی قومی اکیڈمی (این اے سی آئی این) کھلے ٹینڈر عمل کے ذریعہ ایک ٹکنالوجی پارٹنر (ٹی پی) کا انتخاب کرنا چاہتی ہے تاکہ کمپیوٹر پر مبنی امتحانات کرانے کے لئے این اے سی آئی این کو تکنیکی اور ڈھانچہ جاتی امداد فراہم کی جاسکے۔ درخواست دینے کے سلسلہ میں تجویز مورخہ 2018-7-10 میں کہا گیا ہے کہ ٹینڈر کے سلسلہ میں دعوت کا فارم زیادہ سے زیادہ 2018-8-14 کو دوپہر بارہ بجے تک سینٹرل پبلک پروکیورمینٹ  پورٹل https://eprocure.gov.in. سے ڈاؤن لوٹ کیا جاسکتا ہے

 







Image result for images -- save waterنئی دہلی، پانی کے تحفظ اور پانی کے بندوبست جیسے اہم معاملوں میں بھارت کے لوگوں کو مصروف عمل رکھنے کی ایک کوشش کے تحت آبی وسائل ، دریائی ترقیات اور گنگا احیا کی وزارت نے ‘‘ جل بچاؤ ، ویڈیو بناؤ ، پُرسکار پاؤ ’’ نامی ایک ویڈیو مقابلے کا آغاز کیا ہے ۔ 

وزارت نے مقابلہ چلانے کے لئے حکومت ہند کے پورٹل MyGov کے ساتھ شراکت داری کی ہے ۔ کل MyGov کے ذریعے شروع کیا گیا یہ مقابلہ 4 نومبر ، 2018 ء تک جاری رہے گا ۔ مقابلے کے فاتحین کا انتخاب ہر 15 دن میں کیا جائے گا ۔ 

مقابلے میں کوئی بھی بھارتی شہری یو ٹیوب پر اپنے ویڈیو اندراجات اَپ لوڈ کر سکتا ہے اور MyGovمقابلہ پیج www.mygov.in کے ویڈیو لنک سیکشن پر قابل رسائی لنک پر انٹر کر سکتا ہے ۔

مقابلے میں شرکت کرنے والوں کی جیت کا فیصلہ تخلیقیت ، اصلیت ، کمپوزیشن ، تکنیکی امتیاز ، فنی خوبی ، ویڈیو کے معیار ، مشمولات اور ویژوول اثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا ۔ انعام کی رقم پہلی ، دوسری اور تیسری پوزیشن کے لئے بالترتیب 25000 ، 15000 اور 10000 روپئے ہے ۔

Image result for images -- theater drama
نئی دہلی ، نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیانائیڈونے کہاہے کہ تھیئٹرکا احیأ کرنے اوراسے تعلیم اورتفریح کا وسیلہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ موصوف ‘‘ٹوکلاسیکل پلیز فرام انڈیا’’ نام کی کتاب کا اجرأ کرنے کے بعدحاضرین سے خطاب کررہے تھے ۔ یہ کتاب معروف ڈرامہ نگار ڈی پی سنہا کے ہندی ڈراموں کا نگریزی ترجمہ ہے ۔

نائب صدرجمہوریہ ہند نے کہاکہ اگرچہ تھیئٹرکو بہت بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے اورایسایقین کیاجاتاہے کہ یہ ویدک زمانے سے وجود میں رہاہے ۔ تاہم بھرت منی کے ناٹیہ شاسترمیں پہلی مرتبہ منظم طورپر اس کا ذکرہواہے ۔ ناٹیہ شاسترڈرامہ کے موضوع پر قدیم سنسکرت تذکرہ ہے ۔ کالیداس سے لے کررویندرناتھ ٹیگورتک اور گریش کرناڈتک مختلف ڈرامہ نگاروں نے بھارتی تھیئٹرکی نشوونما میں متعد دمرتبہ الگ الگ طریقوں سے مختلف زبانوں میں اپنا تعاون دیاہے ۔

نائب صدرجمہوریہ ہند نے کہاکہ ڈراموں کے علاوہ زبانی روایات کی الگ الگ ہیئتوں کا استعمال بھی اساطیری ، تاریخی اورسماجی موضوعات کے بیان کے لئے کیاگیاہے اوریہ تمام امور سنیماکے ایجاد سے پہلے کے ہیں ۔ برسوں سے مختلف ہیئتوں اورشکلوں نے بھارت کی ثقافتی روایات کو مالامال کیاہے۔

نائب صدرجمہوریہ ہند نے کہا کہ مختلف ثقافتی فنون لطیفہ کی ہیئتوں میں جو دلچسپی پہلے عوام کو تھی اسے پھرسے بیدارکرنے کی ضرورت ہے، خصوصاًنکڑناٹکوں اور زبانی لوک روایات کے توسط سے ان کا احیأ کیاجاناچاہیئے ۔ متعد د سماجی اورترقیاتی موضوعات کو گوناگوں طریقوں سے پرکشش انداز میں بیانیہ کی شکل میں پیش کیاجاسکتاہے اور درکارپیغام موثر طریقے سے پہنچایاجاسکتاہے ۔

نائب صدرجمہوریہ ہند نے کہاکہ موجودہ عہد کے سماج کو آئینہ دکھانے کے علاوہ تھیئٹرکا استعمال اقدارکو فروغ دینے اور مختلف سماجی برائیوں مثلاخواتین پرظلم وزیادتی ، غربت ، ناخواندگی ، ذات پات پرمبنی تفریق ، مادہ جنین کشی ، بچوں سے کرائی جانے والی مزدوری اور جہیز کی قبیح رسم کے خاتمے کے لئے کیاجاسکتاہے ۔ متعدد ڈرامہ نگاروں نے ماضی میں اپنے ڈراموں کے ذریعہ رائے عامہ پراثرڈالاہے ۔

نائب صدرجمہوریہ ہند نے کہاکہ سنیما کے آنے سے ٹیلی ویژن کے توسط سے مختلف النوع تفریحی ذرائع تک افزوں رسائی حاصل ہوئی ۔ ریڈیو، انٹرنیٹ اور عہد جدید کے نئے پلیٹ فارم مثلایوٹیوب وغیرہ نے برعکس طورپر تھیئٹرکی مقبولیت کو متاثر کیاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کا احیأ کیاجائے اوراسے تعلیم اورتفریح کاایک وسیلہ بنادیاجائے ۔ نائب صدرجمہوریہ ہند کی تقریرمتن درج ذیل ہے :

‘‘معروف ڈرامہ نگارجناب ڈی پی سنگھ کے ہندی ڈراموں کا انگریزی ترجمہ یعنی ‘‘ٹوکلاسیکل پلیز فرام انڈیا ’’کا اجراکرکے مجھے بڑی مسرت ہوئی ہے ۔ ڈی پی سنگھ اپنے یونیورسٹی کے زمانے سے ہی تھیئٹرسے وابستہ رہے ہیں ۔ ان کے ڈراموں کا مختلف بھارتی زبانوں میں ترجمہ ہواہے اورانھیں ملک بھرمیں اسٹیج پرپیش کیاگیاہے ۔ مجھے بتایاگیاہے کہ ایک درجن سے زائد طلبأ نے ان کے ڈراموں پراپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے ۔

جہاں ایک طرف ان کا ڈرامہ ‘‘ ونس ان انڈیا’’عدم تشدد کی اصل قدروقیمت تلاش کرتاہے اوریہ کام ایک ہندوراجہ کی کہانی کے ذریعہ انجام دیاجاتاہے ۔وہیں دوسری جانب ایک دوسرے ڈرامے‘‘ کنک آف متھرا’’ میں ڈرامہ نگارنے نیم اساطیری آمر‘کنس’ کے بارے میں جوبھگوان کرشن کے ماموں تھے ، غیرمعمولی بیانیہ انداز اختیارکیاہے اور پورا ڈرامہ اسی انداز میں تحریرکیاہے ۔ اس ڈرامے میں آمرکے کام کاج ،اس کے انداز فکراوربدی کو انجام دینے کے لئے انسانی صلاحیتوں کے انتہائی مضمرات کواجاگرکیا گیاہے ۔دونوں ڈراموں میں بھارتی ثقافت اورروایات اوریہاں کی روحانیت کے مختلف پہلووں کو بھی ابھاراگیاہے ۔

میں جناب سنہا کو ان کے مقبول عام ہندی ڈراموں کو انگریزی ترجمے کی شکل میں پیش کرنے کے لئے مبارکباد دیتاہوں ۔ موصوف ایک معروف ڈرامہ نگارہیں اورانھیں سنگیت ناٹک اکیڈمی کی جانب سے اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازاجاچکاہے ۔اس کے علاوہ متعد ددیگرمقتدرایوارڈ بھی انھیں حاصل ہوچکے ہیں ۔ ان کے تمام ڈرامے کلاسیکی نوعیت کے ہیں اور ہرڈرامہ اپنے آپ میں شاہکارہے ۔

اگرچہ تھیئٹراپنی ازحد بنیادی شکل میں ویدک زمانے سے ہی وجود میں رہاہے تاہم اس کا باقاعدہ تذکرہ اولین مرتبہ منظم طورپربھرت منی کے ناٹیہ شاسترمیں ملتاہے جو سنسکرت زبان میں ڈرامے کے موضوع پرقدیم تذکرہ ہے ۔ اسے وہ بنیاد کہاجاسکتاہے جو بھارت کے تھیئٹر، رقص اورموسیقی کی ہیئتوں کی بنیاد رہی ہے اور یہ تمام ہیئتیں ہزاروں سال پرانی ہیں ۔

ہزاروں برسوں سے فنون لطیفہ اورثقافت نے بھارت کی تہذیبی نشوونمامیں کلیدی کردار اداکیاہے ۔انھوں نے ایسے پلیٹ فارم فراہم کرائے، جس کے ذریعہ مختلف النوع پس منظرکے حاملین ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ مختصراًکہاجائے تو تھیئٹرسمیت فنون لطیفہ کی مختلف شکلوں نے ملک کے اتحاد وسالمیت کو فروغ دینے میں اہم کرداراداکیاہے ۔ کالیداس سے لے کررویندراناتھ ٹیگورتک اوررویندراناتھ ٹیگور سے گریش کرناڈ تک معروف ڈرامہ نگاروں نے متعدد مرتبہ بھارتی تھیئٹرکی نشوونمااورگوناگونی میں زبردست تعاون دیاہے ۔

جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکاہوں تھیئٹرکا استعمال جدوجہد آزادی کے دوران ایک اہم وسیلے کے طورپرکیاگیاتھا کیونکہ یہ وہ ہیئت تھی جو لوگوں کی حس کو متاثرکرتی تھی اوروہ اس سے ترغیب حاصل کرکے جدوجہد آزادی میں شریک ہوجاتے تھے ۔ سماجی مسائل روزمرہ کے معاملات جو ایک عام انسان کو درپیش ہوتے ہیں ان کو بھی جدوجہد آزادی کے فروغ کے ساتھ ساتھ پیش کیاجاتاتھا۔

مہاراشٹر، مغربی بنگال ، تمل ناڈوجیسی ریاستوں میں تھیئٹرتحریک کافی مضبوط تھی اورعہد جدید کا تھیئٹران ہی روایتی تھیئٹرروایتوں سے متاثرہے ۔ باقاعدہ ڈراموں کے علاوہ مختلف النوع لوک روایات اورزبانی روایات کا استعمال اساطیری ، تاریخی اورسماجی موضوعات کوسنیما کے متعارف ہونے سے قبل تھیئٹروں کے ذریعہ ہی پیش کیاجاتاتھا۔ ان مختلف ہیئتوں نے گذشتہ برسوں کے دوران بھارت کی ثقافتی روایات کومضبوط کیاہے ۔

میراخیال یہ ہے کہ مختلف النوع فنون لطیفہ کی ہیئتوں کے تئیں عوام کی دلچسپی کو ازسرنوبیدارکرنے کی ضرورت ہے خصوصانکڑناٹکوں اورزبانی عوامی روایات کے ذریعہ یہ کیاجاسکتاہے ۔ متعد د موضوعات پرمبنی سماجی اوردیگرموضوعات کو دلچسپ انداز میں بیانیہ کی شکل میں پیش کیاجاسکتاہے اوردرکارپیغام موثرطریقے سے پہنچایاجاسکتاہے ۔ تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں عوامی موسیقاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان افواہوں پریقین نہ کرنے کے لئے عوام کو راغب کریں جو تشدد کے نتیجے ہونے والے قتل کو بنیاد بناکر واٹس ایپ کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہیں ۔

عہدحاضرکے سماج میں رونما ہونے والے واقعات کو آئینہ دکھانے والے تھیئٹرکے علاوہ اس کا استعمال مختلف النوع سماجی برائیوں مثلاخواتین کے خلاف ظلم وزیادتی ، ناداری ، ناخواندگی ، ذات پات پرمبنی تفریق ، مادہ جنین کشی ، بچہ مزدوری اورجہیز کی قبیح لعنت کے خاتمے کے لئے کیاجاسکتاہے ۔ متعدد عظیم ڈرامہ نگاروں نے ماضی میں اپنے ڈراموں کے ذریعہ رائے عامہ کو متاثرکیاہے ۔

سنیماکے آنے سے ، مختلف النوع تفریحی ذرائع تک رسائی میں اضافے سے ، ریڈیو، انٹرنیٹ اورعہد حاضرکے پلیٹ فارموں مثلایوٹیوب وغیرہ نے برعکس طورپر تھیئٹرکی مقبولیت کو متاثرکیاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا احیأ کیاجائے اوراسے تعلیم اورتفریح کا وسیلہ بنایاجائے ۔



پرکاش جاوڈیکر کی طرف سے پوسٹ کئے گئے نجی شعبہ کے ’بہترین اداروں‘ کی تصاویر
اگر آپ تعلیم کے میدان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے ادارے میں حکومتی مداخلت نہ ہو تو اس کے لئے آپ کونہ کیمپس درکار ہے اور نہ ہی اساتذہ۔ بس ایک اچھی سی تجویز بناکر دیں اور مودی حکومت ہوا میں ہی آ پ کے ادارے کو ’انسٹی ٹیوٹ آف امیننس‘ یعنی کہ بہترین ادارے کا درجہ فراہم کر دے گی۔ سوال اٹھے تو صفائی بھی حکومت ہی دیگی آ پ کو اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

آپ کو اپنے ادارے کے لئے نہ تو ویب سائٹ بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی، جہاں آپ کو اپ ڈیٹ دینے پڑیں۔

بہترین ادارے کے زمرے میں آنے کے ساتھ ہی حکومت کی طرف سے آپ کو تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے ملنا طے ہو جائیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ کا نام مکیش امبانی، آپ کی بیوی کا نام نیتا امبانی اور ملک میں نریندر مودی کی حکومت ہو! سوال اٹھیں گے تو حکومت یہ کہہ کر صفائی بھی دے گی کہ دیکھو کتنا بہترین منصوبہ ہے! یہ ادارہ آنے والے وقت میں شعبہ تعلیم میں انقلاب لا دیگا۔

یہ سب، ہم یوں ہی نہیں کہہ رہے۔ دراصل پیر یعنی 9 جولائی کو مودی حکومت کی فروغ انسائی وسائل کی وزارت نے ملک کے 6 اداروں کو بہترین ادارہ یعنی انسٹی ٹیوٹ آف امیننس کا درجہ فراہم کیا ہے۔ ان اداروں میں 3 سرکاری اور 3 نجی ادارے شامل ہیں۔ جن نجی اداروں کو بہترین قرار دیا گیا ہے ان کا نام آپ نے شاید ہی سنا ہو۔ ان میں ایک ادارے کا نام ہے جیو انسٹی ٹیوٹ۔ جی ہاں! آپ نے صحیح اندازہ لگایا، یہ جیو فون یا جیو موبائل والا ہی جیو ہے۔

حکومت نے بغیر وجود میں آئے جیو انسٹی ٹیوٹ ادارے کا جس کا ابھی تک کوئی کالج یا یونیورسٹی وجود میں ہے، پھر بھی اس کو بہترین اداروں میں شامل کرلیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جیو انسٹی ٹیوٹ ریلائنس گروپ کا ادارہ ہے، لیکن ابھی تک اس نے کام کرنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔ اس ادارے کے تعلق سے ہم نے معلومات حاصل کرنا چاہی تو اس کا کوئی ٹوئٹر ہینڈل تک نظر نہیں آیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ ادارہ وجود میں آ سکتا ہے اور جب یہ وجود میں آئے گا تو اس کے چلانے میں حکومت کا دخل نہ کے برابر ہوگا۔ جب لوگوں نے اس انسٹی ٹیوٹ کو چنے جانے پر سوالوں کی بارش کر دی تو حکومت کو خیال آیا کہ کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔ دیر رات گئے فروغ انسانی وسائل کی وزارت کی طرف سے صفائی پیش کی گئی۔ صفائی دو صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جیو انسٹی ٹیوٹ کو بہتر کیوں قرار دیا گیا ہے۔

روغ انسانی وسائل کی وزارت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کو گرین فیلڈ کیٹگری میں چنا گیا ہے جو کہ ان نئے اداروں کے لئے ہوتی ہے جن کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔ کمیٹی نے اس انسٹی ٹیوٹ کی تجویز دیکھی اور اسے میعاروں پر پورا اترنے کی بنا پر چن لیا گیا۔ بتایا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے پاس جگہ ہے، منصوبہ ہے اور پیسہ لگانے کا بھروسہ بھی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

دراصل کسی ادارہ کو انسٹی ٹیوٹ آف امیننس کا درجہ ملنے کے بعد اس کے میعار اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے اور نئے نصاب کو جوڑا جا سکتا ہے۔ ان اداروں کو عالمی سطحی ادارے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور عموماً ایسے ادارے اپنا فیصلہ خود لینے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
[قومی آواز سے ]

Image result for images - up cm yogiاتر پردیش میں 50 سال سے زیادہ کی عمر والے سرکاری ملازمین کے سر پر ’لازمی ریٹائرمنٹ‘ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یوگی حکومت نے اس سلسلے میں کارروائی شروع کر دی ہے اور یہ تلوار تقریباً 4 لاکھ سرکاری ملازمین پر لٹکی ہوئی ہے۔ دراصل یوگی حکومت ان سرکاری ملازمین کو ریٹائر کرنے پر غور کر رہی ہے جو اپنی ڈیوٹی نبھانے میں اہل نہیں ہیں۔ لیکن اس قدم سے سرکاری ملازمین میں ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے اور انھوں نے اس کی مخالفت میں آواز اٹھانی بھی شروع کر دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاست میں کل 16 لاکھ سرکاری ملازمین ہیں جن میں سے 4 لاکھ سرکاری ملازمین کو ’لازمی ریٹائرمنٹ‘ کے لیے مجبور کیے جانے کی بات ہو رہی ہے، گویا کہ 25 فیصد ملازمین کو یوگی حکومت نااہل قرار دینا چاہتی ہے۔ یوگی حکومت کے ذریعہ اس سلسلے میں 6 جولائی کو حکم جاری کیا گیا تھا جس کی ایمپلائی یونین مخالفت کر رہی ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری مکل سنگھوی کے ذریعہ ریاست کے سبھی محکموں کے ایڈیشنل چیف سکریٹریوں اور سکریٹریوں کو یوگی حکومت کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ فنانشیل ہینڈ بک، کلاؤز 2، پارٹ 2 سے 4 میں درج بنیادی اصول-56 میں تقرری افسر کے لیے کسی بھی سرکاری ملازم کو نوٹس دے کر بغیر وجہ بتائے 50 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ریٹائرمنٹ ہونے کی سہولت ہے۔ اسی کے تحت حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

مکل سنگھوی کے ذریعہ جاری سرکاری حکم نامہ میں سبھی محکموں کے سربراہان کو ’لازمی ریٹائرمنٹ‘ کی اسکریننگ کی کارروائی آئندہ 31 جولائی تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 50 سال کی عمر مقرر کرنے کی ’کٹ آف ڈیٹ‘ 31 مارچ 2018 رکھی گئی ہے۔ یعنی 31 مارچ 2018 کو جن ملازمین کی عمر 50 سال ہو گئی ہے وہ اسکریننگ کے دائرے میں آئیں گے۔ ایسے میں انھیں لازمی ریٹائرمنٹ لینی ہوگی۔ اس نوٹس کی مدت تین مہینے ہوگی۔

یوگی حکومت کے ذریعہ جاری فرمان کے بعد ایمپلائی یونین کی جانب سے تلخ رد عمل پیش کیا گیا ہے۔ یو پی سکریٹریٹ ایمپلائی ایسو سی ایشن کے سربراہ یادویندر مشرا نے حکومت کے اس قدم کو ملازمین کو حراساں کرنے والا بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ اس فیصلہ پر عمل کرنے سے تقریباً 4 لاکھ سرکاری ملازمین متاثر ہوں گے، اس لیے یوگی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایمپلائی یونین نے تو اپنی جانب سے مخالفت ظاہر کر ہی دی ہے، اسکریننگ کے بعد جب ’لازمی ریٹائرمنٹ‘ کے لیے ملازمین پر زور ڈالا جائے گا تو 
بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں۔
[قومی آواز سے ]

MKRdezign

संपर्क फ़ॉर्म

नाम

ईमेल *

संदेश *

Blogger द्वारा संचालित.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget